ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک میں حجاب پر لگی پابندی کا معاملہ گرمانے کے بعد اب ممبئی کی ایک پرائیویٹ کالج میں حجاب پر لگی پابندی؛ طالبات اور والدین پریشان

کرناٹک میں حجاب پر لگی پابندی کا معاملہ گرمانے کے بعد اب ممبئی کی ایک پرائیویٹ کالج میں حجاب پر لگی پابندی؛ طالبات اور والدین پریشان

Thu, 03 Aug 2023 00:38:13    S.O. News Service

ممبئی ، 3/اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک کی بی جے پی سرکار کی طرف سے ریاستی  سرکاری  کالجوں میں  حجاب پر پابندی عائد کرنے کا معاملہ پورے ملک میں گرمانے کے بعد  اب ممبئی کی ایک پرائیویٹ کالج   میں  حجاب پر پابندی عائد کرنے اور طالبات کو  حجاب پہن کر کالج میں داخل ہونے سے روکنے کی واردات سامنے آئی ہے.

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ممبئی کے چمبور  علاقہ کی ایک پرائیویٹ  کالج    این جی آچاریہ اینڈ  ڈی کے مراٹھے   کالج  آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس میں بارہویں درجہ کی مسلم طالبات کو   حجاب پہن کر کالج میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ اس تعلق سے کالج کے گیٹ کے باہر کھڑی  طالبات  کو اندر داخل ہونے سے روکنے کی وڈیو سوشیل میڈیا پر بھی وائرل ہوگئی ہے۔  معاملے کو لے کر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک طالبہ نے بتایا کہ وہ کالج میں داخل ہونے کے بعد برقعہ اتارنے کیلئے تیار ہے لیکن اسے گیٹ کے باہر ہی اپنا برقع اتارنےکیلئے کہا جا رہا ہے۔ گیٹ پر موجود سیکوریٹی گارڈ نے بتایا کہ کالج   پرنسپل نے اسے ہدایت دی ہے کہ وہ برقع پوش طالبات کو اندر جانے سے پہلے برقع اتارنے کو کہیں۔  معاملہ سامنے آنے کے بعد کالج میں کہرام مچ گیا۔ بتایا جارہا ہے کہ کالج انتظامیہ اس بات پر بضد ہے کہ وہ طالبات کو برقعہ پہن کر داخل ہونے  نہیں  دیں گے۔ 

میڈیا رپورٹوں کی مانیں تو  پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں صحافیوں کی مداخلت کے بعدطالبات کو کالج میں داخل ہونے کی اجازت تو دے دی گئی لیکن کالج انتظامیہ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں  اس سلسلے میں طالبات کے سرپرستوں سے بات چیت کی جائے گی کہ کسی  بھی طالبہ کو  حجاب اور نقاب پہن کر کالج کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔

کالج انتظامیہ کے اچانک  اس فیصلے پر مسلم کمیونٹی کے طلبہ کے اندر ناراضگی پائی جارہی ہے ،ا لبتہ بعض طالبات کا کہنا ہے کہ انہیں  کالج یونیفارم پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ تاہم  برقع نکالنے کے لئے  کالج کے اندر الگ کمرہ  مہیا کرایا جائے۔

طالبات کے سرپرستوں نے  حجاب پر پابندی کو  کالج انتظامیہ  کا فرقہ پرستانہ قدم  قرار دیتے ہوئے اس کی سخت  مذمت کی  ہے، ان کا کہنا ہے کہ  کالج میں داخلہ کے وقت اس طرح کی کوئی  شرط  نہیں  رکھی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ کالج انتظامیہ کا رویہ نامناسب ہے۔ طالبات کو سڑک پر ٹھہرنے کےلئے مجبور کیا گیا ہے  اور سڑک پر ہی برقع اتارنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

مسلم طالبات نے حکومت سے فوری طور پر کالج انتظامیہ کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سرپرستوں نے بتایا کہ اگر داخلہ سے قبل کالج انتظامیہ کی جانب سے حجاب سے متعلق کچھ کہا جاتا تو  وہ اپنی بچیوں کو دوسرے کالج میں داخل کراتے ، لیکن انتظامیہ نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ اچانک حجاب پر پابندی سے متعلق احکامات سے طالبات و سرپرستوں میں تشویش پھیل گئی ہے۔

انگریزی میڈیا کی ا یک رپورٹ کے مطابق این جی آچاریہ اینڈ ڈی کے مراٹھے کالج کے جونیئر کالج سیکشن میں داخلہ لینے والے 2,366 طلباء میں سے 294 مسلم لڑکیاں ہیں۔ 1978 میں قائم  اس کالج میں  یہ پہلا موقع ہے جب جونیئر کالج نے یونیفارم متعارف کرایا ہے ، جس کے مطابق  لڑکوں کے لیے قمیض اور پتلون اور لڑکیوں کے لیے شلوارقمیض اور جیکٹ پہن کر آنا لازمی ہے۔ تاہم انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ڈگری کالج میں  ڈریسنگ پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبات نے کالج  حکام سے درخواست کی ہے کہ انہیں جیکٹ کی جگہ یونیفارم کے رنگ سے مماثل دوپٹہ یا اسکارف پہننے  کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں کالج کے احاطے میں اپنا حجاب نکالنے  کی اجازت دی جائے۔ تاہم، ان دونوں درخواستوں کو کالج انتظامیہ نے مسترد کردیا ہے۔


Share: